مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَمَا سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سائب بن یزید کہتے ہیں کہ میں سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ تک گیا، لیکن راستے بھر میں نے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث بھی بیان کرتے ہوئے نہیں سنا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 29]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3855، ومصباح الزجاجة: 13)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد والسیر 26 (2824)، سنن الدارمی/المقدمة 28 (286) (صحیح)»
وضاحت
اس کی وجہ وہی احتیاط ہے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عادت تھی، تاہم وہ لوگوں کو مسائل بیان فرماتے اور ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور یہ سب کچھ احادیث ہی سے ماخوذ ہوتا تھا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح