بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2881 — باب: (مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: جہاد کے فضائل و احکام باب: (مال غنیمت میں سے) خمس کی تقسیم کا بیان۔ حدیث 2881
حدیث نمبر: 2881 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ جَاءَ هُوَ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمَانِهِ، فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، فَقَالَا: قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، وَقَرَابَتُنَا وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَرَى بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ شَيْئًا وَاحِدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، اور خیبر کے خمس مال میں سے جو حصہ آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا تھا اس کے بارے میں گفتگو کرنے لگے، چنانچہ انہوں نے کہا: آپ نے ہمارے بھائی بنی ہاشم اور بنی مطلب کو تو دے دیا، جب کہ ہماری اور بنی مطلب کی قرابت بنی ہاشم سے یکساں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں بنی ہاشم اور بنی مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2881]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الخمس 17 (3140)، المناقب 2 (3502)، المغازي 39 (4229)، سنن ابی داود/الخراج 20 2978، 2989)، سنن النسائی/قسم الفئی 1 (4141)، (تحفة الأشراف: 3185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/81، 83، 85) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: عبد مناف کے چار بیٹے تھے: ہاشم، مطلب، نوفل اور عبد شمس، جبیر نوفل کی اولاد میں سے تھے اور عثمان عبد شمس کی اولاد میں سے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ ہاشم اور مطلب کو دیا، اس وقت ان دونوں نے اعتراض کیا کہ بنی ہاشم کی فضیلت کا تو ہمیں انکار نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنی ہاشم کی اولاد میں سے ہیں، لیکن بنی مطلب کو ہمارے اوپر ترجیح کی کوئی وجہ نہیں، ہماری اور ان کی قرابت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یکساں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سچ یہی ہے لیکن بنی مطلب ہمیشہ یہاں تک کہ جاہلیت کے زمانہ میں بھی بنی ہاشم کے ساتھ رہے تو وہ اور بنی ہاشم ایک ہی ہیں، برخلاف بنی امیہ کے یعنی عبدشمس کی اولاد کے کیونکہ امیہ عبد شمس کا بیٹا تھا جس کی اولاد میں عثمان اور معاویہ اور تمام بنی امیہ تھے کہ ان میں اور بنی ہاشم میں کبھی اتفاق نہیں رہا، اور جب قریش نے قسم کھائی تھی کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے، نہ میل جول رکھیں گے جب تک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمارے حوالہ نہ کر دیں، اس وقت بھی بنی مطلب اور بنی ہاشم ساتھ ہی رہے، پس اس لحاظ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ذوی القربی کا حصہ دونوں کو دلایا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2880) باب پر واپس اگلی حدیث (2882) →