أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَيْمَةَ بِنْتَ رُقَيْقَةَ ، تَقُولُ: جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ نُبَايِعُهُ، فَقَالَ لَنَا:" فِيمَا اسْتَطَعْتُنَّ وَأَطَقْتُنَّ، إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاءَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں کچھ عورتوں کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیعت کرنے آئی، تو آپ نے ہم سے فرمایا: ”(امام کی بات سنو اور مانو) جہاں تک تمہارے اندر طاقت و قوت ہو، میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2874]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/السیر 37 (1097)، سنن النسائی/البیعة 18 (4186)، (تحفة الأشراف: 15781)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیعة 1 (2) مسند احمد (5/323، 6/357) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جب نبی معصوم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غیر عورتوں سے ہاتھ نہیں ملایا تو پیروں اور مرشدوں کے لیے کیونکر جائز ہو گا کہ وہ غیر عورتوں سے ہاتھ ملائیں یا محرم کی طرح بے حجاب ہو کر ان سے خلوت کریں، اور جو کوئی پیر اس زمانہ میں ایسی حرکت کرتا ہے، تو یقین جان لیں کہ وہ شیطان کا مرید ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح