عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، أَبِي سِنَانٍ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ إِلَى جَنْبِ بَعِيرٍ مِنَ الْمَقَاسِمِ، ثُمَّ تَنَاوَلَ شَيْئًا مِنَ الْبَعِيرِ فَأَخَذَ مِنْهُ قَرَدَةً يَعْنِي وَبَرَةً، فَجَعَلَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا مِنْ غَنَائِمِكُمْ أَدُّوا الْخَيْطَ وَالْمِخْيَطَ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ، فَمَا دُونَ ذَلِكَ فَإِنَّ الْغُلُولَ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشَنَارٌ وَنَارٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: ”لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت (چوری) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار (ندامت) و شنار (عیب) اور باعث نار (عذاب) ہو گی“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5121، ومصباح الزجاجة: 1009) (حسن صحیح) (سند میں عیسیٰ بن سنان لین الحدیث راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)»
وضاحت
۱؎: یعنی قیامت کے دن اس کی چوری ظاہر کی جائے گی تو لوگوں میں رسوائی ہو گی، عذاب الگ ہو گا اور جس قدر ذرہ سی چیز ہو اس کی چوری جب کھلے گی تو اور زیادہ رسوائی ہے، اس لئے مومن کو چاہئے کہ غنیمت کا کل مال حاکم کے سامنے پیش کر دے ایک سوئی یا دھاگہ بھی اپنے پاس نہ رکھ چھوڑے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح