مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَا تَقُولُونَ فِي الشَّهِيدِ فِيكُمْ؟" قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ:" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ، مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ مَاتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ شَهِيدٌ"، قَالَ سُهَيْلٌ: وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَزَادَ فِيهِ:" وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”تم شہید کسے سمجھتے ہو“؟ لوگوں نے جواب دیا: اللہ کے راستے میں مارا جانا (شہادت ہے) فرمایا: ”تب تو میری امت میں بہت کم شہید ہوں گے“! (پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ایسی بات نہیں بلکہ) جو اللہ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ کے راستے میں مر جائے وہ بھی شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا بھی شہید ہے، طاعون کے مرض میں مرنے والا شہید ہے“۔ سہیل کہتے ہیں: مجھے عبیداللہ بن مقسم نے خبر دی وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، اس میں یہ لفظ زیادہ ہے: ”اور ڈوب کر مرنے والا بھی شہید ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2804]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12732)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 32 (652)، صحیح مسلم/الإمارة 51 (1914) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح