هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ شَابُورَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيلُ عَلَيَّ لُعَابُهَا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، أَلَا لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کے نیچے کھڑا تھا، اس کا لعاب میرے اوپر بہہ رہا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے (میت کے ترکہ میں) ہر ایک حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، تو سنو! کسی وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: 863، ومصباح الزجاجة: 963) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح