عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَنْ يَبِيتَ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس مسلمان کے پاس وصیت کرنے کے قابل کوئی چیز ہو، اسے یہ حق نہیں ہے کہ وہ دو راتیں بھی اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الوصایا 1 (1628)، سنن الترمذی/الجنائز 5 (974)، (تحفة الأ شراف: 7944)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوصایا 1 (2738)، سنن ابی داود/الوصایا 1 (2862)، سنن الترمذی/الوصایا 3 (2119)، سنن النسائی/الوصایا 1 (3645) موطا امام مالک/الوصایا 1 (1)، مسند احمد (2/4، 10، 34، 50، 57، 80، 113)، سنن الدارمی/الوصایا 1 (3219) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اس کے پاس مال ہو جس کے لئے وصیت کی ضرورت ہو یا کسی کی امانت ہو تو ضروری ہے کہ ہمیشہ وصیت لکھ کر یا لکھوا کر اپنے پاس رکھا کرے ایسا نہ ہو کہ موت آ جائے اور وصیت کی مہلت نہ ملے، اور لوگوں کے حقوق اپنے ذمہ رہ جائیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح