عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ " أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَخَ رَأْسَ امْرَأَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقَتَلَهَا، فَرَضَخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک عورت کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل ڈالا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، الطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/الحدود 3 (1672)، سنن ابی داود/الدیات 10 (4527 مختصراً)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، (تحفة الأشرا ف: 1391)، القسامة 8 (4746)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بڑے پتھر سے اگر کوئی مارے جس سے آدمی مر جاتا ہے تو اس میں قصاص واجب ہوتا ہے اس لیے کہ وہ قتل عمد ہے، اس میں قصاص واجب ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح