بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 264 — باب: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ (ابواب کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت) باب: علم چھپانے پر وارد وعید کا بیان۔ حدیث 264
أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ ، يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرَ بْنُ سُلَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ، أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص سے دین کے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا، اور باوجود علم کے اس نے اسے چھپایا، تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1707، ومصباح الزجاجة: 109) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: المشکاة: 223، 224)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (263) باب پر واپس اگلی حدیث (265) →