مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانَ ، حَدَّثَنِي نِمْرَانُ بْنُ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا ضَرَبَ رَجُلًا عَلَى سَاعِدِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا مِنْ غَيْرِ مَفْصِلٍ، فَاسْتَعْدَى عَلَيْهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِالدِّيَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ الْقِصَاصَ، قَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا" وَلَمْ يَقْضِ لَهُ بِالْقِصَاصِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لیے دیت (خون بہا) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ”۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3180، ومصباح الزجاجة: 930) (ضعیف)» (سند میں دھثم بن قرّان الیمامی متروک ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: 2235)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
دهثم: ضعيف جدًا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 473
الحكم: ضعيف