مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي الْحُسَيْنِ الْجُعْفِيِّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مَنَازِلَ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَأُصَفِّيَ مَالَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11082، ومصباح الزجاجة: 922) (حسن صحیح)» (سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی“، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح