أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُوبَارِيُّ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ ، حَجَّاجٍ ، مَكْحُولٍ ، ابْنِ مُحَيْرِيزٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُوبَارِيُّ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ، فَقَالَ: السُّنَّةُ" قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَ رَجُلٍ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے سوال کیا: ہاتھ کاٹ کر گردن میں ٹکانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحدود 21، (4411)، سنن الترمذی/الحدود 17 (1447)، سنن النسائی/قطع السارق 15 (4985)، (تحفة الأشراف: 11029)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/19) (ضعیف)» (سند میں عمر، حجاج اور مکحول تینوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4411) ترمذي (1447) نسائي (4985)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 471
الحكم: ضعيف