أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَمْرَةَ أَخْبَرَتْهُ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
1 ام المؤمینین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ اسی وقت کاٹا جائے گا جب (چرائی گئی چیز کی قیمت) چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحدود 14 (6789)، صحیح مسلم/الحدود 1 (1684)، سنن ابی داود/الحدود 11 (4383)، سنن الترمذی/الحدود 16 (1445)، سنن النسائی/قطع السارق 7 (4920)، (تحفة الأشراف: 17920)، و قد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 7 (23)، مسند احمد (6/36، 80، 81، 104، 163، 249، 252)، سنن الدارمی/الحدود 4 (2346) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ ربع دینار یعنی تین درہم یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے، تو اس کے عوض ہاتھ کاٹا جائے گا، ایک درہم چاندی کا وزن تقریباً تین گرام ہے، اس طرح سے تقریباً نو گرام چاندی کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، اور دینار کا وزن سوا چار گرام خالص سونا ہے۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام ۶/۲۶۴- ۲۶۵)
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح