هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِقَامَةُ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ مَطَرِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً فِي بِلَادِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی ایک حد کا نافذ کرنا اللہ تعالیٰ کی زمین پر چالیس رات بارش ہونے سے بہتر ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث: 2537]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7381، ومصباح الزجاجة: 899) (حسن)» (سند میں سعید بن سنان ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 331)
وضاحت
۱؎: جیسے بارش سے خوشحالی آ جاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں۔ ایسے ہی رعایا کی زندگی اسلامی حدود کے نافذ کرنے سے ہوتی ہے، مجرمین کو سزا ہوتی ہے لوگوں کے جان و مال محفوظ رہتے ہیں، اور لوگوں کو راحت حاصل ہوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
سعيد بن سنان الحنفي الحمصي: ’’ متروك رماه الدار قطني وغيره بالوضع ‘‘ (تقريب: 2333)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 470
الحكم: حسن