إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَيْلِ مَهْزُورٍ الْأَعْلَى فَوْقَ الْأَسْفَلِ، يَسْقِي الْأَعْلَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُرْسِلُ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وادی مہزور کے نالہ کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اوپری حصہ نچلے حصہ سے برتر ہے، جس کا کھیت اونچائی پر ہو، پہلے سینچ لے، اور ٹخنوں تک پانی اپنے کھیت میں بھر لے، پھر پانی کو اس شخص کے لیے چھوڑ دے جس کا کھیت نشیب (ترائی) میں ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2074، ومصباح الزجاجة: 873)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأقضیة 31 (3639) (حسن صحیح)» (سند میں زکریا بن منظور ضعیف، اور محمد بن عقبہ مستور راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: وہ بھی اپنے کھیت میں اتنا ہی پانی بھر کر تیسرے کی طرف چھوڑ دے جو اس سے نیچے علاقہ میں ہو،اسی طرح اخیر کیفیت تک عمل کیا جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح