بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2458 — باب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: رہن کے احکام و مسائل باب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان۔ حدیث 2458
حدیث نمبر: 2458 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ" فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الْأَرْضَ بِالْوَرِقِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری، تو ہم کو پیداوار پر زمین کرائے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرائے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحرث 7 (2327)، 12 (2332)، 19 (2346)، الشروط 7، (2722)، صحیح مسلم/البیوع 19 (1547)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3392، 3393)، سنن النسائی/المزارعة 2 (3930، 3931، 3933)، (تحفة الأشراف: 3553)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/کراء الارض 1 (1)، مسند احمد (4/142) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2457) باب پر واپس اگلی حدیث (2459) →