إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو (مفت) دیدے، ورنہ اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الحرث 18 (2341)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1544)، (تحفة الأشراف: 15415) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس مفہوم کی احادیث کو ابتدائے اسلام کے احکام پر محمول کیا جائے، کیونکہ سونے اور چاندی کے عوض تو کرایہ پر زمین دینا بالاتفاق جائز ہے جبکہ ان میں اس کی بھی ممانعت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح