بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2428 — باب: قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان۔ حدیث 2428
حدیث نمبر: 2428 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا الْهِرْمَاسُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَرِيمٍ لِي، فَقَالَ لِي:" الْزَمْهُ"، ثُمَّ مَرَّ بِي آخِرَ النَّهَارِ، فَقَالَ:" مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا أَخَا بَنِي تَمِيمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہرماس بن حبیب اپنے والد کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنے قرض دار کو لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پیچھے لگے رہو، پھر آپ شام کو میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: اے بنی تمیم کے بھائی! تمہارا قیدی کہاں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الأقضیة 29 (3629)، (تحفة الأشراف: 15544) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ہرماس بن حبیب اور ان کے والد دونوں مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (3629)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 466
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2427) باب پر واپس اگلی حدیث (2429) →