مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الصَّبَّاحِ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَبَّبٍ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ السَّائِبِ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَامِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لِصَاحِبِ الْحَقِّ خُذْ حَقَّكَ فِي عَفَافٍ، وَافٍ أَوْ غَيْرِ وَافٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صاحب حق سے فرمایا: ”شریفانہ انداز سے اپنا حق لو خواہ پورا ملے یا نہ ملے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13587، ومصباح الزجاجة: 850) (حسن صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث میں «عفاف» کا لفظ آیا ہے، مطلب یہ ہے کہ صاحب حق اچھے ڈھنگ اور شریفانہ طور طریقے سے قرض کا مطالبہ کرے، نرمی اور شفقت کا لحاظ رکھے، خلاف شرع سختی نہ کرے، اور گالی گلوچ نہ بکے یا وہی مال لے جو حلال ہے، حرام مال سے اپنا قرض پورا نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح