أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی جان اس کے قرض کے ساتھ لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الجنائز 77 (1079)، (تحفة الأشراف: 14981)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440، 475)، سنن الدارمی/البیوع 52 (2633) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو آرام اس وقت تک نہ ملے گا، یا وہ جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ جب تک کہ وہ قرض ادا نہ ہو جائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح