عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ:" آجَرَكِ اللَّهُ وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، ماں کا انتقال ہو گیا (اب لونڈی کا حکم کیا ہو گا؟) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تجھے (تیرے صدقہ کا) ثواب دیا، اور پھر اسے تجھے وارثت میں بھی لوٹا دیا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2394]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (1759)، (تحفة الأشراف: 1980) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ترکہ (وراثت) میں تمہارے پاس لونڈی آ گئی، معلوم ہوا کہ صدقہ کی ہوئی چیز اگر میراث میں آ جائے تو اس کا لینا منع نہیں ہے، البتہ اس کو خریدنا منع ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح