بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2386 — باب: ہبہ کر کے واپس لینے کے حکم کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: ہبہ کے احکام و مسائل باب: ہبہ کر کے واپس لینے کے حکم کا بیان۔ حدیث 2386
حدیث نمبر: 2386 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْعَرْعَرِيُّ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، الْعُمَرِيُّ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْعَرْعَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کر کے اسے واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2386]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6735) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہبہ کر کے واپس لے لینا کمینہ پنی، اور خست کا کام ہے اور خلاف مروت ہے، اکثر علماء ہبہ واپس لینے کو حرام کہتے ہیں مگر باپ ہبہ کو واپس لے لے تو جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2385) باب پر واپس اگلی حدیث (2387) →