مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ أَعْمَرَ رَجُلًا عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ فَقَدْ قَطَعَ قَوْلُهُ حَقَّهُ فِيهَا فَهِيَ لِمَنْ أُعْمِرَ وَلِعَقِبِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے کسی کو بطور عمریٰ کوئی چیز دی، تو وہ جس کو دیا ہے اس کی اور اس کے بعد اس کے اولاد کی ہو جائے گی، اس نے عمریٰ کہہ کر اپنا حق ختم کر لیا، اب وہ چیز جس کو عمریٰ دیا گیا اس کی اور اس کے بعد اس کے وارثوں کی ہو گئی“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2380]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الھبة 32 (2625)، صحیح مسلم/الھبات 4 (1625)، سنن ابی داود/البیوع 87 (3550، 3552)، سنن الترمذی/الأحکام 15 (1350)، سنن النسائی/االعمريٰ (3772)، (تحفة الأشراف: 3148)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 37 (43)، مسند احمد (3/302، 304، 360، 393، 399) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عمریٰ کرنے والے کو اب واپس لینے کا کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی اس کا کوئی عذر مقبول ہو گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح