أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، رَجُلٍ ، سُرَّقٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ، عَنْ سُرَّقٍ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجَازَ شَهَادَةَ الرَّجُلِ وَيَمِينَ الطَّالِبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سرق (ابن اسد جہنی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدعی کی قسم کے ساتھ ایک شخص کی گواہی کو جائز رکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2371]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3822، ومصباح الزجاجة: 831)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/321) (صحیح)» (سند میں مصری تابعی مبہم راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: ابن الجوزی نے التحقیق میں کہا کہ اس حدیث کے راوی بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرمایا اور جمہور صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے کہ مدعی سے قسم لی جائے، اگر وہ قسم کھا لے تو اس کا دعوی ثابت ہو گیا، اور اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اب مدعی علیہ سے قسم لیں گے، اگر اس نے قسم کھا لی تو مدعی کا دعوی ساقط ہو گیا، اور اگر انکار کیا تو مدعی کا دعوی ثابت ہو گیا، اور پھر مدعی کا حق مدعی علیہ سے دلوایا جائے گا، الا یہ کہ وہ معاف کر دے، مگر یہ امر اموال کے دعوی میں ہو گا (یعنی ایک شاہد اور قسم پر فیصلہ) جب کہ حدود، نکاح، طلاق، عتاق،سرقہ اور قذف وغیرہ میں دو گواہ ضروری ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من أھل مصر مجھول وضعفه البوصيري من أجله
ولأصل الحديث شاھد صحيح تقدم قبله (الأصل: 2370)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
الحكم: صحيح لغيره