أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلَا خَائِنَةٍ وَلَا مَحْدُودٍ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا ذِي غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہ خائن مرد کی گواہی جائز ہے اور نہ خائن عورت کی، اور نہ اس کی جس پر اسلام میں حد نافذ ہوئی ہو، اور نہ اس کی جو اپنے بھائی کے خلاف کینہ و عداوت رکھے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8674)، ومصباح الزجاجة: 830)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/181، 203، 208) (حسن)» (سند میں حجاج مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن ترمذی میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 2669)
وضاحت
۱؎: جس سے وہ کینہ رکھتا ہو اس کی گواہی جائز نہیں ہے، البتہ اگر اس کے فائدہ کے لئے گواہی دے تو قبول ہو گی، اہل حدیث کے نزدیک اس شخص کی شہادت جو عادل نہ ہو مقبول نہیں ہے، اس لئے کہ قرآن میں ہے: «وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ» (سورة الطلاق:2)، ”اور اپنے میں سے دو عادل کوگواہ کر لو“ غرض یہ کہ شہادت میں ضروری ہے کہ شاہد مسلمان ہو، آزاد ہو، مکلف ہو، یعنی عاقل بالغ ہو، عادل ہو، صاحب مروت ہو متہم نہ ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس
وللحديث شواھد ضعيفة وأصل الحديث صحيح بلفظ: ((لا تجوز شھادة خائن ولا خائنة ولا زان ولا زانية ولا ذ ي غمر علي أخيه)) (أبو داود: 3601) وسنده قوي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 464
الحكم: حسن