هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ وَقَالَ:" يَا غُلَامُ هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: ”بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطلاق 35 (2277)، سنن الترمذی/الأحکام 21 (1357)، سنن النسائی/الطلاق 5 (3526)، (تحفة الأشراف: 15463)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/447)، سنن الدارمی/الطلاق 15 (2339) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جا سکتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح