عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2313]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأقضیة 4 (3580)، سنن الترمذی/الأحکام 9 (1337)، (تحفة الأشراف: 8964)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 190، 194، 212، 5/279) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رشوت لینے والے پر تو ظاہر ہے کہ وہ رشوت لے کر ضرور اس فریق کی رعایت کرے گا جس سے رشوت کھائے گا، اور رشوت دینے والے پر اس واسطے کہ وہ رشوت دے کر اس کو ظلم اور ناحق پر مائل کرے گا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر اس کا مقدمہ حق ہو اور کوئی حاکم بغیر رشوت لئے حق فیصلہ نہ کرتا ہو تو ظلم کو دفع کرنے کے لئے اگر رشوت دے تو گناہ گار نہ ہو گا، پس ضروری ہے کہ آدمی رشوت دینے اور لینے والے دونوں برے کاموں سے پرہیز کرے، اسی طرح رشوت دلانے اور اس کی دلالی کرنے سے بھی دور رہے کیونکہ ان امور سے ڈر ہے کہ وہ اللہ کی لعنت کامستحق ہو گا، «نسأل الله العافية» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح