بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2299 — باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: کسی کے ریوڑ یا باغ سے گزر ہو تو کیا آدمی اس سے کچھ لے سکتا ہے؟ حدیث 2299
حدیث نمبر: 2299 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ ، جَدَّتِي ، عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ عَمِّ أَبِيهَا رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ وَأَنَا غُلَامٌ أَرْمِي نَخْلَنَا، أَوْ قَالَ: نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأُتِيَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا غُلَامُ"، وَقَالَ ابْنُ كَاسِبٍ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ لِمَ تَرْمِي النَّخْلَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُ، قَالَ:" فَلَا تَرْميِ النَّخْلَ وَكُلْ مِمَّا يَسْقُطُ فِي أَسَافِلِهَا"، قَالَ: ثُمَّ مَسَحَ رَأْسِي، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَشْبِعْ بَطْنَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
رافع بن عمرو غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ایک لڑکا دونوں مل کر اپنے یا انصار کے کھجور کے درخت پر پتھر مار رہے تھے، تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! (ابن کاسب کا قول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں فرمایا: میرے بیٹے!) تم کیوں کھجور کے درختوں پر پتھر مارتے ہو؟، رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں (کھجور) کھاؤں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: درختوں پر پتھر نہ مارو جو نیچے گرے ہوں انہیں کھاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اے اللہ! اسے آسودہ کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2299]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الجہاد 94 (2622)، سنن الترمذی/البیوع 54 (1288)، (تحفة الأشراف: 3595) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن ابی الحکم مستور اور جدتی (دادی) مبہم روایہ ہیں نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 453)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي دا ود (2622) ترمذي (1288)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 461
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2298) باب پر واپس اگلی حدیث (2300) →