بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2272 — باب: جاندار کو جاندار کے بدلے زیادہ کر کے نقداً لینے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: جاندار کو جاندار کے بدلے زیادہ کر کے نقداً لینے کا بیان۔ حدیث 2272
حدیث نمبر: 2272 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عُرْوَةَ ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو سات غلام کے بدلے خریدا ۱؎۔ عبدالرحمٰن بن مہدی نے کہا: دحیہ کلبی سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 390)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، سنن ابی داود/الخراج 21 (2997)، مسند احمد (3/111) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: غزوہ خیبرکے قیدیوں میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں جو ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے بڑی خاندانی عورت تھیں، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں، تو لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ صفیہ آپ کے لائق ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو بلا کر دیکھا، اور دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو سات غلام دے کر ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کو ان سے لے لیا، اور اپنے نکاح میں لائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2271) باب پر واپس اگلی حدیث (2273) →