بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2264 — باب: «رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: «رطب» (تازہ کھجور) کو سوکھی کھجور کے بدلے بیچنے کا بیان۔ حدیث 2264
حدیث نمبر: 2264 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ ، سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَإِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ مَوْلًى لِبَنِي زُهْرَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ؟، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيَّتُهُمَا أَفْضَلُ، قَالَ: الْبَيْضَاءُ فَنَهَانِي عَنْهُ، وَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ:" أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بنی زہرۃ کے غلام زید ابوعیاش کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سالم جَو کو چھلکا اتارے ہوئے جَو کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: دونوں میں سے کون بہتر ہے؟ کہا: سالم جو، تو سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے اس سے روکا، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب تر کھجور کو خشک کھجور سے بیچنے کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: کیا تر کھجور سوکھ جانے کے بعد (وزن میں) کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے منع کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/البیوع 18 (3359، 3360)، سنن الترمذی/البیوع 14 (1225)، سنن النسائی/البیوع 34 (4549)، (تحفة الأشراف: 3854)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 12 (22)، مسند احمد (1/175، 179) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2263) باب پر واپس اگلی حدیث (2265) →