بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2189 — باب: جو چیز پاس میں نہ ہو اس کا بیچنا اور جس چیز کا ضامن نہ ہو اس میں نفع لینا منع ہے۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: جو چیز پاس میں نہ ہو اس کا بیچنا اور جس چیز کا ضامن نہ ہو اس میں نفع لینا منع ہے۔ حدیث 2189
حدیث نمبر: 2189 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، لَيْثٍ ، عَطَاءٍ ، عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ ، قَالَ:" لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2189]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9749) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور عطاء کی ملاقات عتاب رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1212)
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الحديث ضعفه البوصيري وقال: ’’ وعطاء ھو ابن أبي رباح لم يدرك عتابًا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 457
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2188) باب پر واپس اگلی حدیث (2190) →