بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2161 — باب: کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: تجارت کے احکام و مسائل باب: کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی، کاہن کی اجرت اور نر سے جفتی کرانے کی اجرت کے احکام کا بیان۔ حدیث 2161
حدیث نمبر: 2161 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْوَلِيدُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2161]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفة الأشراف: 2783)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 49 (1279)، سنن النسائی/الصید 16 (4300)، البیوع 90 (4672)، سنن ابی داود/البیوع 64 (3479)، مسند احمد (3/339، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابن لہیعہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ایسا ہی ابوالزبیر کی روایت کا معاملہ ہے، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة: 2971)
وضاحت
۱؎: کیونکہ بلی بلا قیمت اکثر جگہوں پر مل جاتی ہے، اور اس کی نسل بھی بہت ہوتی ہے، قیمت سے خریدنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اکثر علماء کہتے ہیں کہ یہ نہی تنزیہی ہے (یعنی نہ خریدنا زیادہ اچھا ہے)، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور تابعین کی ایک جماعت سے یہ مروی ہے کہ بلی کی قیمت کسی حال میں لینا جائز نہیں، اور اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2160) باب پر واپس اگلی حدیث (2162) →