مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَالْحَجَّاجُ ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ ، وَالْحَجَّاجُ ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”زکریا علیہ السلام (یحییٰ علیہ السلام کے والد) بڑھئی تھے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب التجارات/حدیث: 2150]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الفضائل 45 (2379)، (تحفة الأشراف: 14652)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/296، 405، 485) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: معلوم ہوا کہ بڑھئی کا پیشہ حلال ہے، اور رسولوں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہے، اسی طرح سے ہر صنعت اور پیشہ جس میں رزق حلال ہو اچھا کام ہے، اور اسے اپنانے اور اس میدان میں آگے بڑھنے میں ہماری طاقت و قوت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح