عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّذْرِ، وَقَالَ:" إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ اللَّئِيمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نذر سے منع کرتے ہوئے فرمایا: ”اس سے صرف بخیل کا مال نکالا جاتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/القدر 6 (6608)، الأیمان 26 (6693)، صحیح مسلم/النذور 2 (1639)، سنن ابی داود/الایمان 21 (3287)، سنن النسائی/الایمان 24 (3832، 3833)، (تحفة الأشراف: 7287)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/61، 86، 18)، سنن الدارمی/النذور 5 (2385) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بخیل بغیر مصیبت پڑے خرچ نہیں کرتا، جب آفت آتی ہے تو نذر مانتا ہے، اس وجہ سے نذر کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکروہ جانا کیونکہ وہ بخلاء کا شعار ہے، اور سخی تو بغیر نذر کے اللہ کی راہ میں ہمیشہ خرچ کرتے ہیں، اور بعضوں نے کہا: نذر سے ممانعت اس حال میں ہے جب یہ سمجھ کر نذر کرے کہ اس کی وجہ سے تقدیر بدل جائے گی، یا مقدر میں جو آفت ہے، وہ ٹل جائے گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح