بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2117 — باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل باب: یوں کہنا منع ہے ”جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں“۔ حدیث 2117
حدیث نمبر: 2117 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں نہ کہے، بلکہ یوں کہے: «ما شاء الله ثم شئت» جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6552، ومصباح الزجاجة: 746)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/214، 224، 283، 347) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس لئے کہ اس میں مخاطب کو اللہ کے ساتھ کر دیا ہے جس سے شرک کی بو آتی ہے، اگرچہ مومن کی نیت شرک کی نہیں ہوتی پھر بھی ایسی بات کہنی جس میں شرک کا وہم ہو منع ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن صحيح
← پچھلی حدیث (2116) باب پر واپس اگلی حدیث (2118) →