بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2102 — باب: اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: قسم اور کفاروں کے احکام و مسائل باب: اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہی جائے تو اس کو مان لینے کا بیان۔ حدیث 2102
حدیث نمبر: 2102 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ، فَقَالَ: أَسَرَقْتَ، قَالَ: لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَقَالَ عِيسَى: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ بَصَرِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تم نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ پر ایمان لایا، اور میں نے اپنی آنکھ کو جھٹلا دیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الكفارات/حدیث: 2102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: (14816))، وقد آخرجہ: صحیح البخاری/الأنبیاء 48 (3443 تعلیقاً)، صحیح مسلم/الفضائل 40 (2368)، سنن النسائی/آداب القضاة 36 (5429)، مسند احمد (2/314، 383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی اللہ کی عظمت کے سامنے میری آنکھ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ممکن ہے کہ مجھ کو دھوکا ہوا ہو، آنکھ نے دیکھنے میں غلطی کی ہو، لیکن یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ مسلمان کی قسم کو جھٹلاؤں، ہمیشہ صالح، نیک اور بزرگ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب مسلمان ان کے سامنے قسم کھا لیتا ہے تو ان کو یقین آ جاتا ہے، اور وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمان کبھی جھوٹی قسم نہیں کھائے گا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (2101) باب پر واپس اگلی حدیث (2103) →