بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 2057 — باب: شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: شوہر نے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے۔ حدیث 2057
حدیث نمبر: 2057 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَجَّاجٍ ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلًا دَمِيمًا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَوْلَا مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟"، قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8677، ومصباح الزجاجة: 726)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن صحیح احادیث اس سے مستغنی کر دیتی ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
حجاج بن أرطاة: ضعيف مدلس وضعفه البوصيري لتدليس الحجاج
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 452
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2056) باب پر واپس اگلی حدیث (2058) →