هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَرْدَكَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ، وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ النِّكَاحُ، وَالطَّلَاقُ، وَالرَّجْعَةُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تین کام ہیں جو سنجیدگی سے کرنا بھی حقیقت ہے، اور مذاق کے طور پر کرنا بھی حقیقت ہے، ایک نکاح، دوسرے طلاق، تیسرے (طلاق سے) رجعت“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطلاق 9 (2194)، سنن الترمذی/الطلاق 9 (1184)، (تحفة الأشراف: 14854) (حسن)» (شواہد کی بناء پر یہ حسن کے درجہ کو ہے، عبد الرحمن بن حبیب میں ضعف ہے)
وضاحت
۱؎: یعنی ہنسی مذاق اور ٹھٹھے کے طور پر اور اس کے مقابل جِد ہے یعنی درحقیقت ایک کام کا کرنا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن