سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، رَوْحٌ ، أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي، فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ، أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" بَلَى، فَجُدِّي نَخْلَكِ، فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي، أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق دے دی گئی، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، تم اپنی کھجوریں توڑو، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الطلاق 7 (1481)، سنن ابی داود/الطلاق 41 (2297)، سنن النسائی/الطلاق 71 (3580)، (تحفة الأشراف: 2799)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/321)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2334) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت طلاق کی عدت میں ہو اس کا گھر سے نکلنا جائز ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح