هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سورة الرحمن آية 29 قَالَ:" مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے فرمان: «كل يوم هو في شأن» ”وہ ذات باری تعالیٰ ہر روز ایک نئی شان میں ہے“ (سورة الرحمن: 29) کے سلسلے میں بیان فرمایا: ”اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 202]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11005، ومصباح الزجاجة: 73) (حسن)» (بخاری نے تعلیقاً تفسیر سورہ الرحمن میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے، صحیح بخاری مع فتح الباری: 8/620)
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن