أَبُو كُرَيْبٍ ، عُبَادَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَر
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَر ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَمَا أَلْوَانُهَا"، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ:" هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فِيهَا أَوْرَقُ"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ"، قَالَ:" عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ"، قَالَ:" فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک بدوی (دیہاتی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”ان کے رنگ کیا ہیں“؟ اس نے کہا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ان میں کوئی سیاہ بھی ہے“؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے“؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رنگ کہاں سے آیا“؟ اس نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 2003]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7643، ومصباح الزجاجة: 117) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح