أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، أَبِي الزِّنَادِ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الْأُخْرَى الْمِيزَانُ يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق (پیدائش) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر القرآن 4 (3045)، (تحفة الأشراف: 13863)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر ھود 2 (4684)، التوحید 19 (4711)، صحیح مسلم/الزکاة 11 (993)، مسند احمد (2/500) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رات دن کی سخاوت کے باوجود اللہ عزوجل کے خزانے سے کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اسی کے پاس سارے خزانے ہیں، اس نے کسی کو نہیں سونپے، آسمان و زمین والوں کا رزق اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہی سب کو رزق دیتا ہے، حلال ہو یا حرام، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح