عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ سوتا نہیں اور اس کے لیے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 79 (179)، (تحفة الأشراف: 9146)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/395، 400، 405) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کے لئے صفت «نور» اور «وجہ» (چہرہ) ثابت ہوا، لیکن اس کی کیفیت مجہول اور غیر معلوم ہے، اہل سنت یہی کہتے ہیں کہ رب عزوجل کے لئے صفت «وجہ» (چہرہ) ہے، مگر ایسا کہ جیسا اس کی شان کے لائق ہے، ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کی کوئی تاب نہیں لا سکتا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح