حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ:" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 7 (2645)، النکاح 20 (5100)، صحیح مسلم/الرضاع 3 (1447)، سنن النسائی/النکاح 50 (3307)، (تحفة الأشراف: 5378)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/275)، 290، 329، 339، 346) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں سات ہیں۔ ۱- مائیں: ان میں ماں کی مائیں (نانیاں) اور ان کی دادیاں اور باپ کی مائیں (دادیاں پردادیاں) اور ان سے آگے تک) شامل ہیں۔ ۲- بیٹیاں: ان میں پوتیاں، نواسیاں، اور پوتیوں، اور نواسیوں کی بیٹیاں نیچے تک شامل ہیں، زنا سے پیدا ہونے والی لڑکی بیٹی میں شامل ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے، ائمہ ثلاثہ اسے بیٹی میں شامل کرتے ہیں، اور اس نکاح کو حرام سمجھتے ہیں، البتہ امام شافعی کہتے ہیں کہ وہ شرعی بیٹی نہیں ہے، پس جس طرح «يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ» (سورة النساء: 11) میں داخل نہیں ہے اور بالاجماع وہ وارث نہیں ہے اسی طرح وہ «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ» (سورة النساء: 23) والی آیت: «وَبَنَاتُكُمْ» میں داخل نہیں۔ ۳- بہنیں: حقیقی ہوں یا اخیافی (وہ بھائی بہن جن کے باپ الگ الگ اور ماں ایک ہو) یا علاتی (ماں کی طرف سے سوتیلا بھائی یا سوتیلی بہن)۔ ۴- پھوپھیاں: اس میں باپ کی سب مذکر اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ۵- خالائیں: اس میں ماں کی سب مونث اصول یعنی نانی دادی کی تینوں قسموں کی بہنیں شامل ہیں۔ ۶- بھتیجیاں: اس میں تینوں قسم کے بھائیوں کی اولاد بواسطہ اور بلاواسطہ (یا صلبی و فروعی) شامل ہیں۔ ۷- بھانجیاں اس میں تینوں قسموں کی بہنوں کی اولاد۔ مذکورہ بالا رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں رضاعت سے بھی یہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں۔ رضاعی محرمات کی بھی سات قسمیں ہیں: ۱- رضاعی مائیں ۲- رضاعی بیٹیاں ۳- رضاعی بہنیں ۴- رضاعی پھوپھیاں ۵- رضاعی خالائیں ۶- رضاعی بھتیجیاں ۷- رضاعی بھانجیاں۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح