حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ يَتَزَوَّجُهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ:" قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے کون نکاح کرے گا“؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1889]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوکالة 9 (2310)، فضائل القرآن 21 (5029)، 22 (530)، النکاح 14 (5087)، 32 (5121)، 35 (5126)، 37 (5132)، 40 (5135)، 44 (5141)، 50 (5149)، 51 (5150)، اللباس 49 (7117)، (تحفة الأشراف: 4684)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، سنن ابی داود/النکاح 31 (2111)، سنن الترمذی/النکاح 23 (1114)، سنن النسائی/النکاح 1 (3202)، موطا امام مالک/النکاح 3 (8)، مسند احمد (5/336)، سنن الدارمی/النکاح 19 (2247) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہور علماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح