أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَبُو عَتَّابٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ ، أَبِي ، عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى عِمْرَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ الْحُصَيْنِ ، اسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَجَعَ، قِيلَ لَهُ، أَيْنَ الْمَالُ؟، قَالَ: وَلِلْمَالِ أَرْسَلْتَنِي، أَخَذْنَاهُ مِنْ حَيْثُ كُنَّا نَأْخُذُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعْنَاهُ حَيْثُ كُنَّا نَضَعُهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمران رضی اللہ عنہ کے غلام عطا بیان کرتے ہیں کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما زکاۃ پہ عامل بنائے گئے، جب لوٹ کر آئے تو ان سے پوچھا گیا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: آپ نے مجھے مال لانے کے لیے بھیجا تھا؟ ہم نے زکاۃ ان لوگوں سے لی جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں لیا کرتے تھے، اور پھر اس کو ان مقامات میں خرچ ڈالا جہاں ہم خرچ کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1811]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة 22 (1625)، (تحفة الأشراف: 10834) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ زکاۃ وصول کر کے آپ کے پاس لانا ضروری نہ تھا، بلکہ زکاۃ جن لوگوں سے لی جائے انہی کے فقراء و مساکین میں بانٹ دینا بہتر ہے، البتہ اگر دوسرے لوگ ان سے زیادہ ضرورت مند اور محتاج ہوں تو ان کو دینا چاہئے، پس میں نے سنت کے موافق جن لوگوں سے زکاۃ لینی چاہی تھی، ان سے لی اور وہیں فقیروں اور محتاجوں کو بانٹ دی، آپ کے پاس کیا لاتا؟ کیا آپ نے مجھ کو مال کے یہاں اپنے پاس لانے پر مقرر کیا تھا؟۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح