بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1796 — باب: زکاۃ نکالنے والے کو زکاۃ نکالنے پر کیا دعا دی جائے؟
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل باب: زکاۃ نکالنے والے کو زکاۃ نکالنے پر کیا دعا دی جائے؟ حدیث 1796
حدیث نمبر: 1796 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ، فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِي، فَقَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کوئی اپنے مال کی زکاۃ لاتا تو آپ اس کے لیے دعا فرماتے، میں بھی آپ کے پاس اپنے مال کی زکاۃ لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «اللهم صل على آل أبي أوفى» اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر اپنی رحمت نازل فرما ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 64 (1497)، المغازي 35 (4166)، الدعوات 19 (6332)، 33 (6359)، صحیح مسلم/الزکاة 54 (1078)، سنن ابی داود/الزکاة 6 (1590)، سنن النسائی/الزکاة 13 (2461)، (تحفة الأشراف: 5176)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/353، 354، 355، 381، 383) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اپنی زکاۃ خود لے کر آئے تو عامل (زکاۃ وصول کرنے والا) اس کو دعائیں دے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ:
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1795) باب پر واپس اگلی حدیث (1797) →