عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٍ ، أَبِي حَمْزَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، أَنْهَا سَمِعَتْهُ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مال میں زکاۃ کے علاوہ کوئی حق نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الزکاة 27 (659، 660)، (تحفة الأشراف: 18026)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 13 (1677) (ضعیف منکر)» (سند میں درج ابو حمزہ میمون ا الٔاعور ضعیف راوی ہے، اور شریک القاضی بھی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 4383)
وضاحت
۱؎: امام ترمذی نے فاطمہ بنت قیس سے اس کے خلاف روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک مال میں اور حق بھی ہیں، سوائے زکاۃ کے، تو یہ حدیث مضطرب ہوئی۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف منكر
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (659،660)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 443
الحكم: ضعيف منكر