جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، هُشَيْمٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العیدین 4 (953)، (تحفة الأشراف: 1082)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 273 (543)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/126، 232) (صحیح)» (سند میں جبارہ بن مغلس ضعیف راوی ہے، لیکن سعید بن سلیمان نے صحیح بخاری میں ان کی متابعت کی ہے)
وضاحت
۱؎: عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، اگر کھجوریں ہوں تو بہتر ہے، ورنہ جو میسر ہو کھائے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح