بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 1741 — باب: حرمت والے مہینوں کا روزہ۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: صیام کے احکام و مسائل باب: حرمت والے مہینوں کا روزہ۔ حدیث 1741
حدیث نمبر: 1741 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي السَّلِيلِ ، أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ ، أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي مُجِيبَةَ الْبَاهِلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنَا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتُكَ عَامَ الْأَوَّلِ، قَالَ:" فَمَا لِي أَرَى جِسْمَكَ نَاحِلًا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكَلْتُ طَعَامًا بِالنَّهَارِ مَا أَكَلْتُهُ إِلَّا بِاللَّيْلِ، قَالَ:" مَنْ أَمَرَكَ أَنْ تُعَذِّبَ نَفْسَكَ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمًا بَعْدَهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَيَوْمَيْنِ بَعْدَهُ"، قُلْتُ: إِنِّي أَقْوَى، قَالَ:" صُمْ شَهْرَ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ بَعْدَهُ، وَصُمْ أَشْهُرَ الْحُرُمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومجیبہ باہلی اپنے والد یا چچا سے روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے نبی! میں وہی شخص ہوں جو آپ کے پاس پچھلے سال آیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میں تم کو دبلا دیکھتا ہوں، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں دن کو کھانا نہیں کھایا کرتا ہوں صرف رات کو کھاتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس نے حکم دیا کہ اپنی جان کو عذاب دو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طاقتور ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے ۱؎ کے روزے رکھو، اور ہر ماہ ایک روزہ رکھا کرو میں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم صبر کے مہینے کے روزے رکھو، اور ہر ماہ میں دو روزے رکھا کرو میں نے کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: صبر کے مہینہ میں روزے رکھو، اور ہر ماہ میں تین روزے اور رکھو، اور حرمت والے مہینوں میں روزے رکھو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1741]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الصوم 54 (2428)، (تحفة الأشراف: 5240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/28) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابومجیبہ مجہول ہے، نیز بعض روایات میں مجیبہ الباہلیہ ہے، نام میں اختلاف کے ساتھ جہالت بھی ہے، اس لئے یہ ضعیف ہے، نیزملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود: 419)
وضاحت
۱؎: صبر کے مہینے سے مراد صیام کا مہینہ (رمضان) ہے، صبر کے اصل معنی روکنے کے ہوتے ہیں، چونکہ اس مہینہ میں روزہ دار اپنے آپ کو دن میں کھانے پینے اور جماع سے روکے رکھتا ہے اس لیے اسے «شہر الصبر» (صبر کا مہینہ) کہا گیا ہے۔
۲؎: حرمت والے مہینوں سے مراد یہاں ذی الحجہ اور محرم کے مہینے ہیں، ویسے حرمت والے مہینے چار ہیں: رجب، ذو العقدہ، ذوالحجۃ و محرم۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2428)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 441
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1740) باب پر واپس اگلی حدیث (1742) →